4 جون 2011 - 19:30

سعودی عرب نے یمن کے ڈکٹیٹر کی سعودی آمد کی تصدیق کردی ہے ۔ سعودی عرب کے فرمانروا کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہےکہ یمن کے صدر اور ان کے ہمراہ لوگ جو جمعے کےدن راکٹ حملےمیں زخمی ہوئے تھے ریاض پہنچ گئےہیں۔

ابنا: ایک سعودی عھدیدار کے مطابق یمن کے صدر علی عبداللہ صالح ایک سعودی طیارے سے ریاض پہنچے ہيں اور ان کا گھرانہ بھی ریاض پہنچنے ہی والا ہے۔علی عبداللہ صالح کو سعودی عرب کے ایک اسپتال میں داخل کردیا گيا ہے۔ ادھر یمن کے صدر کے سعودی عرب فرارکے بعد ان کے نائب نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ اطلاعات کےمطابق عوام نے علی عبداللہ صالح کے فرارکے بعد خوشیاں منائيں۔ یادرہے تیونس کے ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی نے بھی سعودی عرب میں ہی پناہ لی ہے۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح تینتیس برس سے اقتدار پرقابض ہیں۔ عوام نے رواں برس کے آغاز سے ان کےخلاف تحریک شروع کی تھی اور ان کی حکومت کے سرنگونی کے خواہاں ہیں۔ ادھر اسلامی انسانی حقوق تنظیم کے ایک رکن رضا کاظم نے کہا ہےکہ امریکہ اور سعودی عرب یمن میں اپنے پٹھو افراد کو اقتدار میں لانے کی کوشش کررہےہیں۔ لندن میں اسلامی انسانی حقوق تنظیم کےاس رکن نے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب علی عبداللہ صالح کے ایسے جانشین کی تلاش ہیں جو ان کے سامراجی مفادات کی حفاظت کرسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت

دریں اثناء یمنی عوام کا کہنا تھا کہ انقلاب کامیاب ہوگیا ہے اور یمنی آمر فرار ہوگئے ہیں یوں آل سعود نے سینکڑوں یمنیوں کے قاتل نئے ڈکٹیٹر کی میزبانی کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110